نئی دہلی،16؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)دہلی کی ایک عدالت نے پولس انسپکٹر موہن چند شرما کے قتل اور2008بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر سے جڑے دیگر معاملوں کے قصوروار عارض خان کو پھانسی کی سزا سنائی ہے- ایڈیشنل سیشن جج سندیپ یادو نے یہ سزا سنائی اور ساکیت کورٹ نے اسے ’ریئریسٹ آف ریئر‘ کیس مانا ہے-
دراصل پولیس نے دہشت گرد تنظیم ’انڈین مجاہدین‘ سے مبینہ طور پر جڑے عارض خان کو سزائے موت سنانے کی گزارش عدالت سے کی تھی- پولیس نے کہا تھا کہ یہ صرف قتل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ انصاف کی حفاظت کرنے والے لاء انفورسمنٹ افسر کے قتل کا معاملہ ہے-عارض خان کے وکیل نے موت کی سزا دیے جانے کی مخالفت کی تھی جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج سندیپ یادو نے شام چار بجے کیلئے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا- بعد ازاں اس معاملہ کو ’رئیریسٹ آف ریئر‘ مانتے ہوئے عارض خان کیلئے پھانسی کی سزا سنائی گئی-
واضح رہے کہ عدالت نے 2008 میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے دوران انسپکٹر موہن چند شرما کے قتل اور دیگر جرائم کیلئے عارض خان کو گزشتہ 8 مارچ کو ہی قصوروار ٹھہرایا تھا- عدالت نے کہا تھا کہ سماعت کے دوران یہ ثابت ہوتا ہے کہ عارض خان اور اس کے ساتھیوں نے پولیس افسر پر گولی چلائی اور ان کا قتل کیا-
قابل ذکر یہ بھی ہے کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے دوران دہلی پولیس کے خصوصی سیل کے انسپکٹر شرما کے قتل معاملہ میں جولائی 2013 میں ایک عدالت نے انڈین مجاہدین کے دہشت گرد شہزاد احمد کو تاحیات جیل کی سزا سنائی تھی- اس فیصلے کے خلاف شہزاد احمد کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے-
عارض خان کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ جائے وقوع سے بھاگ گیا تھا اور اسے فرار قرار دیا گیا تھا- عارض کو 14 فروری 2018 کو پکڑا گیا اور تب سے اس پر مقدمہ چل رہا ہے-